بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذی الحجہ کی پہلی رات چار رکعات پڑھنے کی فضیلت, روایت کی تحقیق

سوال

ایک رسالے میں "تذکرۃ الواعظین" کے حوالے سے یہ تحریر کیا گیا ہے کہ" ذی الحجہ کی پہلی رات  جو آ دمی دورکعت نفل ادا کر ے، فاتحہ کے بعد پچیس مرتبہ سو رت اخلاص پڑھے، تو اس کے نامہ اعمال میں پچیس سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور مرنے سے پہلے جنت میں اس کا مقام دکھایا جاتا ہے"  کیا یہ حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو کتب حدیث سے اس کا حوالہ لکھ  دیجیے گا؟

جواب

"تذكرة الواعظين" ميں یہ روایت کسی سند کے بغیر ان الفاظ سے منقول ہے:

"من صلی أربع ركعات في أول ليلة من ذي الحجة، فيقرأ بعد الفاتحة الإخلاص خمسة وعشرين مرة، كتب الله في ديوانه عبادة خمسة وعشرين سنة، ولا يموت في الدنيا إلا رأى موعده في الجنة."

تذکرۃ الواعظین، الباب السادس والخمسون فی فضیلۃ أيام العشر من ذي الحجة، ص: 154

اس روایت كی کوئی صحیح یا ضعیف سند نہیں مل سکی،لہذا جب تک کوئی معتبر سند نہ مل جائے،   اسے بیان کرنے سے احتراز کیا جائے۔

ملاحظه: ذی الحجہ کے دس دنوں کے فضائل اور ان دنوں میں قیام اللیل اور روزے کی فضیلت میں کئی احادیث مباركہ  وارد ہیں، ان روایات کو بیان کرنا چاہيے۔فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201881
تاریخ23-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں