بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کی موجودگی میں بھتیجے وارث نہیں ہوں گے

سوال

چار بھائی ہیں، ان میں سے ایک کا انتقال ہو گیا ہے اس کے بیٹے موجود ہیں ابھی دوسرےکا انتقال ہوا اور دوسرے کے بیٹے نہیں ہیں آیا پہلے والے کے بیٹوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ  پہلے بھائی ( جس کا پہلے انتقال ہوا) کے بیٹوں کا دوسرے بھائی ( جس  کا ابھی انتقال ہوا) کی میراث میں شرعًا حق نہیں ہے؛ کیوں کہ میت کے بھائی  زندہ ہیں، بھائی زندہ ہونے کی صورت میں بھتیجے کو حصہ نہیں ملتا، میراث کی تقسیم کا  تفصیلی طریقہ کار معلوم کرنے کے لئے ورثا ء کی تفصیل ارسال فرمائیں ۔فقط واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201870
تاریخ22-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں