بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک تولہ سونا جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ملکیت میں ہونے سے وجوب زکات کا حکم

سوال

اگر ایک تولہ سونے کی قیمت رقم کے حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کے  پاس صرف ایک تولہ سونا ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو،  لیکن اس کے علاوہ نقدی، چاندی، سامان تجارت وغیرہ کچھ بھی نہ ہو تو اس پر زکات واجب نہیں ہوگی، البتہ اگر اس ایک تولہ سونے کے ساتھ  ضرورتِ اصلیہ سے زائد کچھ نقدی یا چاندی یا سامان تجارت ہو  تو پھر ان کی مجموعی مالیت پر زکات واجب ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 295):

(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 303)

(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعًا و جعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا: بالإجزاء."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201858
تاریخ21-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں