بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کان کٹے جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

سوال

مقطوع الاذن جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر قربانی کے جانور کا کان ایک تہائی یا اس سے کم کٹا ہوا ہو  تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر ایک تہائی سے زائد کٹا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي الجامع: أنه إذا کان ذهب الثلث أو أقلّ جاز، و إن کان أکثر لایجوز، و الصحیح أنّ الثلث وما دونه قلیل، وما زاد علیه کثیر، وعلیه الفتوی."

(ج:5، ص:298۔ط:رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201827
تاریخ21-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں