بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی عذر سے ذبح کے بعد قربانی کا جانور دفن کرنا

سوال

کسی عذر کی بنا قربانی کا جانور ذبح کے بعد دفن کرنا درست ہے؟  براۓ کرم مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

قربانی کے جانور کی جو اشیاء قابلِ استعمال ہوں، مثلاً گوشت، کھال وغیرہ، اگر خود استعمال نہ کرنی ہوں تو کسی اور کو دے دیا جائے، اسے دفن کرنا ضیاعِ مال ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

"۔۔۔گوشت کا دفن کردینا جائز نہ ہوگا کہ اضاعتِ مال ہے"(ج۱۰ / ص۳۳)

مبسوط میں ہے :

 وإن سقط شيء من متاع القوم في القبر فلا بأس بأن يحفروا التراب في ذلك الموضع ليخرجوا متاعهم من غير أن ينبش الميت لأن لمال المسلم حرمة وقد «نهى رسول الله  صلى الله عليه وسلم  عن إضاعة المال» وفي إبقاء المتاع في القبر إضاعة المال وقد صح في الحديث أن المغيرة بن شعبة - رضي الله عنه - سقط خاتمه في قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فما زال بالصحابة حتى رفع اللبن وأخذ خاتمه وقبل بين عيني رسول الله صلى الله عليه وسلم  ثم كان يفتخر بذلك ويقول: أنا آخركم عهدًا برسول الله صلى الله عليه وسلم". (۲ / ۷۴، دار المعرفۃ)

باقی عذر سے سائل کی کیا مراد ہے؟ وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201820
تاریخ21-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں