بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں غیر مسلم کو گواہ بنانا

سوال

نکاح میں کسی غیر مسلم کو گواہ بنانا کیسا  ہے؟  اگر گواہ بنا لیا تو کیا نکاح ہو جائے گا جب کہ نکاح چھپ کر ہوا ہو؟

جواب

مسلمان کا نکاح صحیح ہونے کے لیے دو مسلمان، عاقل، بالغ اور آزاد مردوں یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کا گواہ ہونا شرط ہے، غیرمسلم گواہوں کی موجودگی میں مسلمان کا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 253):

"وأما صفات الشاهد الذي ينعقد به النكاح ... ومنها الإسلام في نكاح المسلم المسلمة فلاينعقد نكاح المسلم المسلمة بشهادة الكفار؛ لأن الكافر ليس من أهل الولاية على المسلم، قال الله تعالى: {ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلًا} [النساء: 141] وكذا لايملك الكافر قبول نكاح المسلم ولو قضى قاض بشهادته على المسلم ينقض قضاؤه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201767
تاریخ20-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں