بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چالیس سے پچاس ہزار نقدی ہو تو قربانی کا حکم

سوال

ایک شخص کی بیس ہزار روپے تنخواہ ہے اور وہ اپنی تنخواہ میں سے پانچ چھ  ہزار روپے خرچ کرتا ہے ہر مہینہ،  لیکن ابھی اس کے پاس چالیس سے پچاس ہزار نقد رقم موجود ہے، کیا اس شخص پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کے وجوب  کے لیے قربانی کے دنوں میں صاحبِ نصاب ہونا شرط ہے؛ لہذا قربانی کے دنوں میں اگر مذکورہ شخص کے پاس موجود ضرورت و استعمال سے زائد اشیاء، ضرورت سے زائد نقدی سمیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہوں تو اس پر قربانی کرنا واجب ہوگا۔

نوٹ: اس سال عید الاضحیٰ کے موقع پر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تقریباً 75 سے 80 ہزار پاکستانی روپے (کے درمیان) تھی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولايشترط أن يكون غنيًّا في جميع الوقت حتى لو كان فقيرًا في أول الوقت، ثم أيسر في آخره تجب عليه". (۵/ ۲۹۲، رشیدیہ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201708
تاریخ19-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں