بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرباني كے جانور كي رقم نكالنے كے بعد صاحب نصاب نه رهے تو کیا حكم ہے ؟

سوال

عرض یہ ہے کہ آج کے حساب سے مال نصاب کی ملکیت اگر 55500روپے ہو ،اور قربانی کرنے کے بعد  بقیہ مالیت 46000ہزار روپے بچتی ہو تو قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

آپ کے سوال کا مقصد  اگریہ ہے کہ کسی شخص کے پاس قربانی کے  نصاب کے بقدر   رقم موجود ہو اور قربانی کا جانور (یا جانور میں حصہ )خریدنے کے بعد  رقم نصاب سے کم رہ جائے تو  اس صورت  میں قربانی کا کیا حکم ہے ؟

تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس صورت میں بھی قربانی واجب ہی رہے گی۔ اس لئے کہ  نصاب کا اعتبار قربانی کے واجب ہونے کے لئے ہے، قربانی کا جانور یا اس کا حصہ لینے کے بعد مالک نصاب رہنا شرط نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 191):
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان". فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201707
تاریخ19-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں