بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باپ کا اپنی شادی شدہ بیٹی کو قربانی کا جانور گفٹ کرنا

سوال

کیا کوئی  باپ اپنی بیٹی کو اس کی شادی کرنے کے  بعد قربانی کا جانور دے سکتا ہے کہ تو اس جانور کی اپنی طرف سے قربانی کرلے؟ اور دے دیا تو کیا اس کی قربانی درست ہو جاۓ گی؟

جواب

 باپ اپنی بیٹی کو  یا کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کو تحفے میں قربانی کے لیے جانور دے سکتا ہے، اور بیٹی اس جانور کو قربان کرتی ہے تو اس کی قربانی درست ہوجائے گی۔

"وليس علی الرجل أن يضحي عن أولاده الكبار إلا بإذنه". (عالمگيري 293/5) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201702
تاریخ19-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں