بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کے ایف سی (kfc) کھانا اور اس میں ملازمت کا حکم

سوال

کے ایف سی کا کھانا کھانا حلال ہے یا حرام ہے؟ اور اس پر نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ  جگہ کے کھانے کے حلال یا حرام ہونے کا مدار کھانے کی تیاری میں شامل تمام اجزاء کے حلال یا حرام ہونے پر ہے، پس اگر مذکورہ  ادارہ مغربی ممالک سے  درآمد شدہ  ایسی مرغی استعمال کرتا ہو جو شرعی اصولوں کے مطابق ذبح نہ کی گئی ہو یا  ریسیپی میں شامل مصالحہ جات میں شامل اجزاء خصوصاً چیز (پنیر) حلال نہ ہو تو اس ادارے کی اشیاء کھانا حلال نہ ہوگا، اور نہ ہی اس میں ملازمت کی تنخواہ کلی طور پر حلال ہوگی۔ البتہ اگر مذکورہ ریسٹورنٹ میں جو گوشت اور مصالحہ جات وغیرہ کھلایا جاتا ہے وہ مقامی طور پاکستان میں پاک اجزاء سے حلال طریقے سے  تیار کیا جاتا ہو تو ان ریسٹورنٹ میں تیار کردہ کھانے کی اور اس میں ملازمت کی شرعاً گنجائش ہوگی۔ تسلی بخش تحقیق میسر نہ ہو تو اجتناب کرنا بہتر ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111201686
تاریخ19-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں