بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلوع آفتاب کے وقت تلاوت یا وظیفہ پڑھنا

سوال

طلوعِ آفتاب کے وقت تلاوتِ قرآنِ پاک یا  کوئی وظیفہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

طلوعِ آفتاب کے وقت قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا بلا کراہت جائز ہے۔ البتہ (طلوع ،غروب اور استواءِ شمس) ان اوقاتِ مکروہہ میں قرآنِ مجید کی تلاوت کے بجائے درود شریف، تسبیح و دیگر اذکار میں مشغول رہنا افضل اور اولیٰ ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں طلوع آفتاب کے وقت تلاوت یا کوئی وظیفہ پڑھ سکتے ہیں۔

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

" وفي الْبُغْيَةِ: الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ وَالدُّعَاءُ وَالتَّسْبِيحُ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ. اهـ.

وَلَعَلَّهُ؛ لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ رُكْنُ الصَّلَاةِ وَهِيَ مَكْرُوهَةٌ فَالْأَوْلَى تَرْكُ مَا كَانَ رُكْنًا لَهَا". (كتاب الصلاة، الأوقات المنهي عن الصلاة فيها، ۱ / ۲۶۴، ط: دار الكتاب الإسلامي)

رد المحتار میں ہے:

"(قَوْلُهُ: فَالْأَوْلَى) أَيْ فَالْأَفْضَلُ لِيُوَافِقَ كَلَامَ الْبُغْيَةِ فَإِنَّ مُفَادَهُ أَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ أَصْلًا؛ لِأَنَّ تَرْكَ الْفَاضِلِ لَا كَرَاهَةَ فِيهِ". ( كتاب الصلاة، ۱ / ۳۷۴، ط: دار الفكر)۔ فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201643
تاریخ19-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں