بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح سے قبل منگیتر سے ہمبستری کرنا

سوال

جس سے منگنی ہوئی ہو،  اس کے ساتھ شادی سے پہلے اگر ہم بستری کر لیں تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ منگنی شرعا نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں ہے،  جس کی وجہ سے منگنی کرنے بعد  بھی منگیتر   دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہی ہوتی ہے ، اور نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا یا میسجز پر تعلقات قائم کرنا سب نا جائز  ہوتا  ہے،  لہذا صورت مسئولہ میں نکاح سے قبل منگیتر سے ہم بستری کرنا زنا ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، جس کی شرعی سزا سو کوڑے ہیں، لہذا  منگنی کو طول دینے کے بجائے جلد از جلد نکاح کرلینا چاہیئے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201638
تاریخ18-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں