بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ تین بیٹے اور چار بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

ایک صاحب نے انتقال کے بعد 7 مرلہ کا گھر چھوڑا، جس کی کل مالیت 3 کروڑ 50 لاکھ ہے تقریباً، ورثاء میں ایک بیوہ اور 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، تقسیم کا طریقہ کار بتا دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو 80 حصوں میں تقسیم کرکے 10 حصے بیوہ کو، 14 حصے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی سو روپے میں سے ساڑھے بارہ روپے بیوہ کو، ساڑھے سترہ روپے ہر ایک بیٹے کو، اور 8 عشاریہ 75 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201631
تاریخ18-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں