بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے کپڑے زکوة میں دینا

سوال

میرے پاس کچھ جوڑے بغیر سلے نئے رکھے ہیں،  کیا میں ان کو زکاۃ میں دے سکتی ہوں؟

یہ  جو ڑے میرے ہیں، مطلب میں نے ان کو  تجارت کی غرض سے نہیں لیا تھا، اب جب ان کو دیا جائے تب ان کی وہی  قیمت سمجھی جائے گی جس پر وہ خریدے گئے تھے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ  زکات کی نیت سے مذکورہ کپڑے مسحقین کو دے سکتی ہیں، البتہ دینے سے پہلے ان کی موجودہ قیمتِ فروخت معلوم کرلی جائے، اور  زکات کے حساب میں زکات ادا کرتے وقت موجودہ قیمتِ فروخت کو شمار کرلیا جائے، جس وقت مذکورہ کپڑے خریدے گئے تھے، اس وقت کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا۔

المحيط البرهاني في فقه النعماني میں ہے:

" وذکر محمد رحمه الله في «الرقيات» أنه يقوم في البلد الذي حال الحول على المتاع بما يتعارفه أهل ذلك البلد نقداً فيما بينهم، يعني غالب نقد ذلك البلد، ولا ننظر إلى موضع الشراء، ولا إلى موضع المالك وقت حولان الحول؛ لأن هذا مال وجب تقويمه، فيقوّم بغالب نقد البلد كما في ضمان المتلفات إلا أنه يعتبر نقد البلد الذي حال الحول فيه على المال؛ لأن الزكاة تصرف إلى فقراء البلدة التي فيها المال، فالتقويم بنقد ذلك البلد أنفع في حق الفقراء من حيث الرواج، فيجب اعتباره". ( كتاب الزكاة، الفصل الثالث في بيان مال الزكاة، ۲ / ۲۴۶، ط: دار الكتب العلمية) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201617
تاریخ18-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں