بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو ٹوٹے ہوئے دانتوں والے جانور کی قربانی کا حکم

سوال

جانور کے دو دانت پتھر لگنے سے ٹوٹ گئے تو کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے؟ 

جواب

جو جانور قربانی کی عمر کو پہنچ جائے، اس کے بعد اس کے دو دانت پتھر لگنے سے ٹوٹ گئے ہوں، لیکن باقی دانتوں سے وہ چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ 

"وَأَمَّا الْهَتْمَاءُ وَهِيَ الَّتِي لَا أَسْنَانَ لَهَا فَإِنْ كَانَتْ تَرْعَى وَتَعْتَلِفُ جَازَتْ وَإِلَّا فَلَا، وَذَكَرَ فِي الْمُنْتَقَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - أَنَّهُ إنْ كَانَ لَا يَمْنَعُهَا عَنْ الِاعْتِلَافِ تُجْزِيهِ وَإِنْ كَانَ يَمْنَعُهَا عَنْ الِاعْتِلَافِ إلَّا أَنْ يَصُبَّ فِي جَوْفِهَا صَبًّا لَمْ تُجْزِهِ، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ فِي قَوْلٍ: لَاتُجْزِي سَوَاءٌ اعْتَلَفَتْ أَوْ لَمْ تَعْتَلِفْ، وَفِي قَوْلٍ: إنْ ذَهَبَ أَكْثَرُ أَسْنَانِهَا لَاتُجْزِي كَمَا قَالَ فِي الْأُذُنِ وَالْأَلْيَةِ وَالذَّنَبِ، وَفِي قَوْلٍ: إنْ بَقِيَ مِنْ أَسْنَانِهَا قَدْرُ مَا تَعْتَلِفُ تُجْزِي وَإِلَّا فَلَا."

(بدائع الصنائع، ٥/ ٧٥، دار الكتب العلمية ، بيروت)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201594
تاریخ18-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں