بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے کپڑے درزی سے سلوانا

سوال

درزی سے خواتین کے کپڑے سلوانے کا کیا حکم ہے؟

کیا اس متعلق احتیاط کرنی چاہیے یا یہ دین میں غلو کے ضمن میں آۓ گا؟

جواب

مرد درزی نامحرم عورتوں کے کپڑوں کی سلائی کرسکتا ہے بشرطیکہ ذہنی کدورت یا قلبی فساد کا اندیشہ نہ ہو، اگر کسی ایسے فتنے کا خوف ہو تو یہ دل و دماغ کا گناہ ہوگا، ایسی صورت میں اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کوئی احتیاط کے پیشِ نظر اپنی خواتین کے کپڑے مرد درزی سے نہیں سلاتا تو یہ دین میں غلو نہیں ہے، تاہم اسے ناجائز کہنا یا سمجھنا دین میں غلو ہوگا۔

واضح رہے کہ سلائی کے لیے مرد درزی کا عورتوں کے جسم کا ناپ  جسم سے لینا بالکل ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201588
تاریخ18-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں