بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذو الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہونے کے بعد خواتین کے لیے بال اور ناخن تراشنے کا حکم

سوال

کیا خواتین بھی جو قربانی کا ارادہ رکھتی ہیں وہ بھی اپنے بال اور ناخن نہ تراشیں؟

جواب

جوشخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو   اس کے لیےذی الحجہ کاچاند ہوجانے کے بعد قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب اور باعثِ ثواب امر ہے ۔ حدیث شریف میں ہے:

’’حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے تو تم میں سے جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ (اس وقت تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ ’’نہ بال کٹوائے اور نہ ناخن کتروائے۔‘‘ (مظاہر حق جدید، شرح مشکوٰۃ شریف، 1/ 920)

لہذا جو خواتین قربانی کا ارادہ رکھتی ہوں وہ بھی اس حکم پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ ایام میں اپنے بال اور ناخن نہ تراشیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

 

ذوالحجہ کے چاند کے بعد بال و ناخن کاٹنے کے حوالے سے جو ممانعت ہے وہ کس کے لیے ہے؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201563
تاریخ17-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں