بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

افیون کا حکم

سوال

افیون کے نشہ کی کیا حیثیت ہے، اور اس کی کیا سزا ہے؟

جواب

افیون کا دوائی میں استعمال جائز ہے، لیکن  نشہ کی غرض سے اس کا استعمال حرام ہے، اور قابلِ تعزیر جرم ہے، یعنی مسلمانوں کی مقننہ (جماعت یا مسلمان قاضی) جو سزا تجویز کرے۔

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’افیون، چرس، بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اوران کا دوا میں خارجی استعمال جائزہے، نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائزہے۔ مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے، تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کا استعمال خارجی بھی ناجائزہے‘‘۔

(کفایت المفتی 9/129،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111201526
تاریخ17-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں