بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین سال کی جدائی کے بعد خلع لینے پر عدت کا حکم

سوال

ایک عورت اگر اپنے خاوند سے عرصہ 2/3 سال سے قطع تعلق کر چکی ہے اور اپنے والدین کے گھر ہے اور شوہر بسلسلہ روزگار سعودی عرب میں مقیم ہے تو ایسی صورت میں خلع لے کر عورت عدت پوری کرے گی یا نہیں؟

جواب

صورت  مسئولہ میں خلع لینے  کی صورت میں خلع کے بعد عدت گزارنا لازم ہوگا۔

واضح رہے   یک طرفہ خلع شرعًا معتبر نہیں ہے، یعنی جس میں شوہر کی  رضامندی یا اس کی طرف سے آمادگی نہ ہو۔

الفتاوى الهندية (1/ 531):

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية. وإن شكت في وقت موته فتعتد من حين تستيقن بموته، كذا في العتابية". 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201513
تاریخ17-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں