بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اشتہار میں جان دار کی تصویر کا حکم

سوال

ہمارا خواتین کے کپڑوں کا کاروبار ہے،  کیا اشتہار کی غرض سے خواتین کو کپڑے پہنا کر فوٹو اور ویڈیو بنانا جائز ہے؟ مزید یہ کہ اگر مردوں  کو خواتین کے لباس پہنا کر اشتہار دیا جاے تو کیا یہ جائز ہوگا؟

جواب

کسی بھی جان دار  کے چہرے کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے؛ خواہ ڈیجیٹل ہو یا نان ڈیجیٹل، اس لیے جان دار کی تصاویر پرمشتمل   اشتہار بنانا  ناجائزہے،  اس سے بھی اجتناب انتہائی ضروری ہے۔البتہ ایسے اشتہارات جن میں جان دار کی تصاویر بالکل  نہ  ہوں ، جائز ہے، بشرطیکہ کوئی خارجی وجہ حرمت کی  (مثلًا  ناجائز اور غلط کام کی دعوت اور اعلان پرمشتمل اشتہار) نہ ہو۔

ملحوظ رہے کہ مردوں کو خواتین کے کپڑے پہنانا (جو خواتین کے ساتھ خاص ہوں) شرعًا درست نہیں ہے۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201461
تاریخ16-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں