بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچھڑے میں عقیقے کے سات حصے کرنا

سوال

ایک بچھڑے میں عقیقہ کے ۷ حصے ہوتے ہیں یا ایک ؟

جواب

جس بچھڑے کی عمر دو سال مکمل نہ ہوئی ہو، اس میں عقیقہ کرنا  درست نہیں ہے، اگرچہ ایسا جانور کتنا ہی فربہ کیوں نہ ہو۔

تاہم اگر عمر  دو سال یا اس سے زائد ہو اور قربانی سے مانع بننے والے عیوب سے پاک ہو  تو ایک بڑے جانور میں عقیقے کے سات حصے ہوسکتے ہیں۔

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2 / 213):
"وحكمها كأحكام الأضحية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201450
تاریخ16-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں