بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام سے پہلے قرآن سکھانا

سوال

میرا دوست تھائی لینڈ میں رہتا ہے، بدھسٹ ہے،لیکن اسلام لانا چاہتا ہے،کہتا ہے  2 ، 3 ماہ بعد اسلام لائے گا، پہلے اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے،میں اس کو قرآن کی کچھ سورتیں بھیجتا ہوں،اس نے یاد کرلیا ہے، اور میں اس کو ترجمہ بھی بھیجتا ہوں،وہ کہتا ہے کہ  میں یہ مشکل وقت میں پڑھتا ہوں؟ کیا اس کو اسلام سے پہلے قرآن سکھا نا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ غیر مسلم جو اسلام میں رغبت رکھتا ہے، اسے مطالعہ اور ترغیب کے  لیے قرآنِ پاک یا اس کی سورتیں دینا  اور اسلام لانے سے  پہلے قرآن سکھا نا جائز ہے، لیکن اس کو جلدی اسلام لانے کی ترغیب دیں؛ اس لیے  کہ موت کا کسی کو علم نہیں کہ  کب آجائے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8 / 231):

"وفي الذخيرة: إذا قال الكافر من أهل الحرب أو من أهل الذمة: علّمني القرآن فلا بأس بأن يعلمه ويفقهه في الدين، قال القاضي علي السغدي: إلا أنه لايمس المصحف، فإن اغتسل ثم مسه فلا بأس به".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 177):

"ويمنع النصراني من مسّه، وجوّزه محمد إذا اغتسل، ولا بأس بتعليمه القرآن والفقه عسى يهتدي."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201434
تاریخ15-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں