بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو نفل کا ثواب پہنچتا ہے

سوال

فوت شدگان کے لیے نوافل ادا کیے جا سکتے ہیں؟

جواب

فوت شدہ لوگوں کو ثواب پہنچانے کی نیت سے نفل ادا کیے جاسکتے ہیں، اور یہ ثواب ان کو پہنچتا بھی ہے اور ان کے لیے راحت کا سامان بھی بنتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة، كذا في البدائع. ثم قال: وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتًا أو حيًّا. والظاهر أنه لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه، ثم بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره، لإطلاق كلامهم، وأنه لا فرق بين الفرض والنفل".

(کتاب الصلاۃ باب الجنائز ج نمبر ص نمبر ۲۴۳،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201431
تاریخ15-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں