بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی نیت سے پالے ہوئے بکرے میں نذر کی نیت کرنے کی صورت میں قربانی کا حکم

سوال

ایک شخص نے قربانی کیلۓ بکرا  پالا،  قربانی کا وقت آنے سے پہلے بکرا  سخت بیمار ہو گیا تو جانور کے مالک نے یہ کہا اگر یہ ٹھیک  ہو گیا تو میں اس کو اللّہ نام میں دے  دوں گا،  اب وہ ٹھیک  ہو گیا تو جواب طلب امر یہ ہے کہ اس جانور کو اللّٰہ نام میں دیا جاۓگا یااس کی قربانی کی جاۓ گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب جانور کے مالک نے یہ  معلق جملہ کہا کہ ’’اگر یہ ٹھیک  ہو گیا تو میں اس کو اللّہ نام میں دے  دوں گا‘‘ تو  یہ نذر منعقد ہوگئی اور اس بکرے کے صحیح ہونے کے بعد اب اس نذر کو پورا کرنا لازم ہے ، اور مذکورہ شخص اگر صاحب نصاب ہو تو اس پر اس بکرے کے علاوہ الگ جانوری کی قربانی بھی واجب ہوگی۔

بدائع الصنائع  (5 / 63):
ولو نذر أن يضحي بشاة - وذلك في أيام النحر - وهو موسر فعليه أن يضحي بشاتين عندنا؛ شاة لأجل النذر وشاة بإيجاب الشرع ابتداء
۔فقط واللہ اعلم
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201409
تاریخ15-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں