بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شراب کی کمپنی میں ملازمت کرنے کا حکم

سوال

شراب کی کمپنی ملازمت کرنا کیسا ہے اور اس کی تنخواہ کیسی ہے، حلال یا حرام؟

جواب

شراب کی کمپنی میں ملازمت کرنا ناجائز ہے اور اس کی تنخواہ حرام ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت فرمائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شراب پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، بنانے والے، اٹھاکر لے جانے والے اور جس کے پاس اٹھاکر لے جائی جائے سب پر لعنت فرمائی ہے۔

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 517):

حدَّثنا عثمانُ بنُ أبي شيبةَ، حدَّثنا وكيعُ بنُ الجرَّاح، عن عبد العزيز ابن عمر، عن أبي طُعمة (1) مولاهم وعبد الرحمن بن عبد الله الغافقي
أنهما سمعا ابن عمر يقول: قال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -: "لَعَن الله الخمرَ وشاربَها وساقيَها، وبائعَها ومبتاعَها، وعاصِرها ومعتصِرها، وحامِلَها والمحمولَةَ إليه.

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201368
تاریخ14-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں