بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحبان نام رکھنے کا حکم

سوال

سحبان نام رکھنا درست ہے؟

جواب

’’سَحْبَان‘‘ (سین کے فتحہ کے ساتھ)   کے معنی ہیں : ہرشے کو بہا کرلے جانے والا ، صفایا کردینے والی چیز ۔ ’’سَحْبَان بن وائل‘‘  قبیلہ وائل کے ایک مشہور فصیح و بلیغ خطیب  تھے، بلاغت اور فصاحت میں وہ ضرب المثل ہیں، فصیح اور بلیغ شخص کو اس سے تشبیہ دی جاتی ہے، روایات میں ان کے اسلام قبول کرنے اور صحابیت کے شرف سے مشرف ہونے کا ذکر بھی ہے۔ لڑکے کا یہ نام رکھنا درست ہے۔

الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (1/ 146):
"[سحب] السحابَةٌ: الغَيْمُ، والجمع سحابٌ وسُحُبٌ وسَحائبُ. وسَحَبْتُ ذَيْلي أَسْحَبُ: جررته فانْجَرَّ. وتَسَحَّبَ عليه، أي أَدَلَّ. والسَحَبُ: شِدَّةُ الأكلِ والشُرْبِ. ورجل أُسْحوبٌ، أي أكولٌ شَروبٌ. وسحبان: اسم رجل من وائل، كان لسنا بليغا، يضرب به المثل في البيان".
لسان العرب (1/ 461):
" ورجلٌ سَحْبانُ أَي جُرَافٌ، يَجْرُف كُلَّ مَا مَرَّ بِهِ؛ وَبِهِ سُمِّيَ سَحْبانُ. وسَحْبانُ: اسْمُ رَجُلٍ مِنْ وائِلٍ، كَانَ لَسِناً بَلِيغاً، يُضْرَبُ بِهِ المَثَلُ فِي البَيانِ والفَصَاحةِ، فَيُقَالُ: أَفْصَحُ مِنْ سَحْبانِ وائِلٍ". فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201357
تاریخ14-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں