بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’رملہ‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

"رملہ" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’رملہ‘‘ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے، نیز ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی "رملہ" ہے؛ اس لیے یہ نام رکھنا درست، بلکہ باعث برکت ہے۔ 

الطبقات الكبرى ط العلمية (8/ 328):

"رملة

وتكنى أم ثابت بنت الحارث. وهو الْحَارِث بْن ثَعْلَبَة بْن الْحَارِث بْن زَيْد بن ثعلبة بن غنم بن مالك بن النجار. وأمها كبشة بنت ثابت بن النعمان بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدي بن عمرو بن مالك بن النجار. تزوجها مُعَاذ بْن الْحَارِث بْن رفاعة بْن الْحَارِث بْن سواد بْن مالك بْن غنم بْن مالك بن النجار. أسلمت رملة وبايعت رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201305
تاریخ14-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں