بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل کا متعین کردہ مستحق زکوۃ کے علاوہ کسی اور مستحق کو زکوۃ دینےکا حکم!

سوال

وکیل اگر کسی دوسرے مستحق کو زکات  دے دے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ اگر وکیل متعین کردہ مستحقِ  زکات کے علاوہ کسی اور مستحق  کو   زکات دے دے تو  زکات ادا ہوجائےگی، لیکن احتیاطًا وکیل کو ایسا نہیں کرنا  چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لايضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره."

(كتاب الزكوة، ج:2،ص:269، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201287
تاریخ13-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں