بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیمہ پالیسی اور قربانی

سوال

کیا بیمہ پالیسی کا حصہ دار قربانی کر سکتا ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کی آمدنی حرام ہو ، مثلاً:  بینک کا کوئی ملازم ہو  یا انشورنس کا کاروبار کرنے والا ہو ،  جس کا ذریعہ آمدنی  صرف حرام ہو، یا اس  کی غالب آمدنی حرام ہو اور وہ قربانی کے جانور میں دیگر لوگوں کے ساتھ شریک ہو جائے  تو شرکاء میں سے کسی کی بھی  قربانی  درست نہیں ہو گی، اس لیے حرام آمدن والے کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔

البتہ اگر کسی شخص کی کمائی حلال ہو لیکن وہ بیمہ پالیسی لئے ہوئے ہو تو محض بیمہ پالیسی لینے کی وجہ سے اس کی شرکت مفسدِ قربانی نہ ہو گی  بلکہ سب کی قربانی درست ہو گی۔

صحيح مسلم (2/ 703):
"عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لايقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً، إني بما تعملون عليم} [المؤمنون: 51] وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} [البقرة: 172]، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟ "
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 291)
" في القنية: لو كان الخبيث نصاباً لايلزمه الزكاة ؛ لأن الكل واجب التصدق عليه؛ فلايفيد إيجاب التصدق ببعضه".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201286
تاریخ13-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں