بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا سسر کے ساتھ حج پر جانے کا حکم

سوال

کیا عورت اپنے سسر کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے اپنے سسر کے ساتھ حج پر جانا جائز ہے؛ کیوں کہ عورت کا سسر اس کے لیے محرم ہے، البتہ اگرسسر کے ساتھ اکیلے سفر پر جانے سے فتنہ کا اندیشہ ہو  تو اکیلے اس کے ساتھ سفر سے گریز کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 31):

"(وزوجة أصله وفرعه مطلقًا) ولو بعيدًا دخل بها أو لا.

(قوله: وزوجة أصله وفرعه) لقوله تعالى: {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} [النساء: 22] وقوله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23] والحليلة الزوجة وأما حرمة الموطوءة بغير عقد فبدليل آخر وذكر الأصلاب لإسقاط حليلة الابن المتبنى لا لإحلال حليلة الابن رضاعا فإنها تحرم كالنسب بحر وغيره."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201248
تاریخ13-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں