بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق بائن کے بعد عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا

سوال

میری کزن کو طلاق ِ بائن ہو گئی ہے، وہ عدت میں ہے، لیکن اب وہ اس ہی مرد سے دوبارہ تجدیدِ نکاح کرنا چاہتی ہے، عدت کا وقت گزرنے کے بعد، کیا شریعت اس کو کسی اور شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیوں کہ اس کو اپنا خاوند ناپسند ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایک طلاقِ  بائن  واقع ہونے سے  زوجین کا  نکاح ختم ہوجاتا ہے، اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوتی ہے۔  اور اگر فریقین دوبارہ گھر بسانا چاہیں تو  گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ  دوبارہ  نکاح کر کے ساتھ  رہ  سکتے ہیں، نیز  دوبارہ نکاح کے بعد  آئندہ  کے لیے شوہر   صرف دو  طلاقوں کا مالک  ہوگا۔

فتاویٰ  ہندیہ میں ہے:

"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

 

(ج:۱،ص:۴۷۲، فصل فيما تحل بہ المطلقۃ  وما     يتصل بہ،:طبع : ماجدیہ)

في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3 / 187):

"وَإِنْ كَانَ بَائِنًا فَإِنَّهُ يُوجِبُ زَوَالَ الْمِلْكِ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201225
تاریخ12-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں