بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹے اور دو بیٹیوں میں پچاس مرلہ زمین کی تقسیم

سوال

متوفيہ /مورثہ: والدہ،  ترکہ : 50 مرلہ ، ورثاء: تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان سب بہن بھائیوں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

مرحومہ کی جائیداد میں سے اولاً اگر کوئی قرضہ ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا، پھر اگر مرحومہ نے کوئی وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی میں سے نافذ کیا جائے گا، اس کے بعد مرحومہ کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، ہر بیٹے کو دو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔

یعنی اگر مرحومہ نے پچاس مرلہ زمین چھوڑی ہے تو ساڑھے بارہ مرلہ ہر ایک بیٹے کو اور سوا چھ مرلہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہے جب مرحومہ کے والدین اور شوہر میں سے کوئی زندہ نہ ہو، اگر ان میں سے کوئی زندہ ہو تو تقسیم مختلف ہو گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201197
تاریخ12-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں