بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعلیمی مقصد کے لیے ڈمی تصویر بنانا

سوال

میں ایک دینی ادارے کے لیے گرافکس کا کام کرتی ہوں، جو خواتین کو آن لائن دین کا علم سکھا رہا ہے۔ ان کا ایک کورس غسل میت کے حوالے سے ہے، اب ظاہر ہے کہ آن لائن کورس میں عملی مشق تو نہیں ہو سکتی اس لیے طالبات کو غسل اور تکفین کا طریقہ سکھانے کے لیے کیا ڈمی کی تصویر استعمال کی جاسکتی ہے؟ یہاں تصویر منسلک کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے ورنہ میں ان تصاویر کو بھی شیئر کرتی جن کو استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔

جواب

ڈمی اگر جاندار  کی شکل میں ہو تو  وہ مجسمہ ہے اور اس کا بنانا اور استعمال میں لانا ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201133
تاریخ11-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں