بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساٹھ سال کی عمر میں بیوہ ہونے والی خاتون کی عدت کی مدت

سوال

 میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہےاور میری والدہ کی عمر 60 سال ہے، میری والدہ 1 ماہ 10 دن عدت کر رہی ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ کو مزید عدت کرنی چاہیے یا نہیں؟

جواب

آپ کی والدہ محترمہ کو چار ماہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے، بیوہ عورت کی عمر جتنی بھی ہو، اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہی ہے، البتہ اگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 510)

’’(و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201132
تاریخ11-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں