بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاک ڈاؤن کے دنوں میں اسکول فیس کی وصولی کا حکم

سوال

کیا لاک ڈاؤن کے دنوں میں اسکولوں کا فیس مانگنا جائز ہے ؟اور اگر کوئی فیس ادا نہ کرے تو شرعی طور پر گناہ گار تو نہیں ہوگا؟

جواب

اگر اسکول کی انتظامیہ اور طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان چھٹیوں کے  زمانہ  سے متعلق کوئی الگ سے معاہدہ نہیں ہوا ،اور لاک ڈاؤن کے عرصہ میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کا داخلہ بحال تھا تو اس صورت میں اسکول انتظامیہ اس عرصے کی فیس لینے کا حق رکھتی ہے،اس صورت میں فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے آدمی حق کی ادائیگی سے بری الذمہ نہیں ہوگا۔

البتہ اگر تعطیلات کے زمانے سے متعلق اسکول انتظامیہ اور سرپرستوں کے درمیان کوئی معاہدہ  ہوا ہوتو ا س کے مطابق عمل کیاجائے گا۔

یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر  رہنی چاہیے کہ موجودہ حالات میں اسکول کے اخراجات اور لوگوں کی آمدن کی پریشانیاں ایک حقیقت ہیں ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ دونوں فریق باہمی مشاورت ومصالحت سے دو طرفہ رعایت پر مبنی کوئی ایسی صورت اختیار کرلیں جس سے اسکول انتظامیہ بھی اپنا نظم برقرار رکھ سکے اور طلبہ کے سرپرستوں پر بھی کوئی ناقابلِ  برداشت بوجھ نہ پڑے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111201111
تاریخ11-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں