بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پہلے قعدے میں درود پڑھ لیا

سوال

اگر چار رکعت والی فرض نماز کی دوسری رکعت کے بعد بیٹھے ہوئے تشہد کے بعد کھڑے ہونے کی بجائے درود شریف شروع کردیا بھول کر اور بیچ میں یاد آیا کہ یہ تو دوسری رکعت ہےتو اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر چار رکعت والی فرض نماز کے پہلے قعدہ میں تشہد پڑھنے کے بعد درود شریف پڑھ لیا یا کم از کم " اللهم صل علی محمد" تک پڑھ لیا تو آخر میں سہو سجدہ کرنا واجب  ہوگا، کیونکہ پہلے قعدے میں تشہد پر اکتفاء کرنا، درود شریف نہ پڑھنا اور تشہد پڑھ کر فوراً کھڑا ہوجانا واجب ہے اور واجب ترک کرنے سے سہو سجدہ کرنا واجب ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 510)

"(ولا يزيد) في الفرض (على التشهد في القعدة الأولى) إجماعا (فإن زاد عامدا كره) فتجب الإعادة (أو ساهيا وجب عليه سجود السهو إذا قال: اللهم صل على محمد) فقط."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة،  فصل في بيان تاليف الصلاة إلى انتهائها، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201091
تاریخ10-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں