بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پائے پر موجود کھال کو جلا کر پائے کھانے کا حکم

سوال

 عرض یہ ہے کہ گھر میں اکثر پائے بنتے ہیں کھانے کے لیے تو ان پر لگی ہوئی کھال کو اتارنے کے بجائے جلا لیا جاتا ہے جس سے بال وغیرہ تو ختم ہو جاتے ہیں مگر کھال کی موٹائی والی چمڑی برقرار رہتی ہے،  پھر اسی طرح پکا لیا جاتا ہے۔ اس طرح پکے ہوئے پائے کھانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

حلال  مذبوح جانور کے پائے کھانا جائز ہے، خواہ اس پر موجود کھال کے صرف بال جلائے گئے ہوں اور کھال موجود ہو؛ اس لیے کہ مذبوح، ماکول اللحم جانور کی کھال( جیسا کہ گائے بکرے، وغیرہ کی ) کھانا جائز ہے۔

’’ما یحرم أکله من أجزاء الحیوان المأکول سبعة: الدم المسفوح والذکر والأنثیان والقبل والغدۃ والمثانة والمرارۃ، بدائع.‘‘

(فتاویٰ شامی، قبیل کتاب الاضحیۃ،ج:۶،ص:۳۱۱)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111201073
تاریخ10-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں