بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفارشی امام کے پیچھے نماز

سوال

کچھ عرصہ قبل ہمارے ہاں  سول سیکرٹریٹ  میں خطیب  کی ایک  اسامی پر درخواستیں طلب کی گئیں،   مذکورہ اسامی پر بے شمار جید علماءِ  کرام نے درخواستیں جمع کیں،  ٹیسٹ و انٹرویو لینے کے بعد سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے اپنے بھائی جس کی قراءت بھی کافی کمزور ہے کو بھرتی کر لیا،  اب سوال یہ ہے کہ چونکہ مذکورہ خطیب سفارش پر بھرتی ہوا ہے اور  جید علماء کی حق تلفی ہوئی ،کیا ان کے پیچھے مستقل طور پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر ان امام کی قرات میں ایسی غلطی ہو جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، پھر ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ، ورنہ ان کے پیچھے نماز پڑھناجائز ہے، باقی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کے لیے جید علماء کرام کو چھوڑ کر کمزور قراءت والے رشتہ دار کو بھرتی کرنا امانت میں خیانت ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201070
تاریخ10-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں