بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہنوں کا حصہ

سوال

میرے والد صاحب کے چار بھائی ہیں دادا کے انتقال کے بعد چاروں میں زمین برابر تقسیم کی گیٔ اور بہنوں کو انکا حصہ نہیں دیا گیا اب والد صاحب چاہتے ہیں کہ انکا ہماری زمین میں جو حصہ آ رہا ہے تو وہ انکو دیا جائے اسکی کیا شکل ہوگی میرے والد صاحب کی دو بہنیں ہیں میرے والد صاحب کے حصہ میں تقریبا چار لاکھ کی زمین ہے۔

جواب

آپ کے دادا کی میراث میں ان کی بیٹیوں کا جو حصہ بنتا تھا،اس حصہ کا  چوتھائی کی ادائیگی دونوں بہنوں کو  لازمی ہے۔

اگر ورثاء میں ان کی بیوی نہ تھیں تو کل جائیداد کا دس ، دس فیصد آپ کے والد کی  ہر بہن کا حصہ ہے۔یعنی مذکورہ صورت میں  آپ کے والدچار لاکھ میں سے  40000 ہزار کرکے ہر بہن کو دے دیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201063
تاریخ10-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں