بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا قربانی کا جانور ذبح کرنا اور عورت کے ذبیحہ کا حکم

سوال

کیا عورت قربانی کا جانور یا دوسری کسی غرض سے جانور ذبح کرسکتی ہے؟ نیز عورت کے ذبیحہ کا حکم کیا ہوگا؟

جواب

عورت اگر ذبح کرنا جانتی ہو تو اس کے لیے قربانی کا جانور یا کسی اور غرض سے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہےذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ذبح کرنے والا مردہی ہو ، بلکہ عورت کے ذبیحہ بھی حلال ہے چنانچہ حضرت کعب بن مالک  رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے پتھر (کی نوک) سے بکری ذبح کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس کے بارے  میں دریافت کیاگیا تو آپ ا نے اس کے کھانے کاحکم دیا۔

صحيح البخاري (7/ 92)
عن نافع، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه: أن امرأة ذبحت شاة بحجر، «فسئل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فأمر بأكلها» 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 297)
فتحل ذبيحتهما، ولو) الذابح (مجنونا أو امرأة أو صبيا يعقل التسمية والذبح) ويقدر
۔ فقط واللہ اعلم
 

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201051
تاریخ10-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں