بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیکسی ڈرائیور کا نا محرم عورت کے ساتھ سفر کرنا

سوال

 ٹیکسی کے ذریعے کمائی کا کیا حکم ہے،  جب کہ سواری مردوں کی بھی ملتی ہے اور عورتوں کی بھی،  کیا اس میں اختلاط مع الاجانب تو نہیں؟

جواب

ٹیکسی چلانے کو روزگار کا ذریعہ بنانا جائز ہے،  تاہم ٹیکسی میں تنہا کسی اجنبیہ عورت کو سوار کرنا صحیح نہیں،تنہا کسی غیرمحرم کو لے کر سفر کرنے سے احتراز کیا  جائے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 368):

"و في الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام.

(قوله :الخلوة بالأجنبية) أي الحرة لما علمت من الخلاف في الأمة، و قوله: حرام قال في القنية مكروهة كراهة تحريم وعن أبي يوسف ليس بتحريم اهـ."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ط: سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201040
تاریخ10-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں