بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک دو انمول نامی کتابچہ

سوال

" دو انمول  خزانے" نامی ایک کتابچہ ہے، بتایا جاتا ہے کہ اس کے پڑھنے سے مشکلات ختم ہو جاتی ہیں، کیا اس کو پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

دعاؤں کی حقیقی اور یقینی قبولیت کا تعلق اللہ تعالی کی ذات سے ہے، البتہ بعض مواقع کی مناسبت سے رسول اللہ ﷺ   سے مسنون اوراد اور وظائف بھی منقول ہیں، جن کے پڑھنےمیں ثواب بھی ہے، اور بے شمار فوائد بھی ہیں، اس لیے مسنون اذکار پر مشتمل ایسے کسی بھی مستند دعائیہ مجموعہ کا پڑھنا درست ہے جو اصول و آداب کی رعایت کے ساتھ مرتب کیا گیا ہو۔

مذکورمجموعہ (دوانمول خزانے)  میں جو اذکار اور دعائیں مستند حوالوں سے نقل کی گئی ہیں، ان کا پڑھنا جائز ہے،رہی بات مشکلات کے خاتمے کی، تو اس کا تعلق  اللہ تعالیٰ  کی مشیت  سے ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو مشکلات دور فرمائیں گے، اور اگر نہ چاہیں تو مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں،البتہ مومن کا یقین ہونا چاہیے کہ اس کی دعا رائے گان نہیں جاتی،اور دعا کی قبولیت کے شرائط اور صورتیں بھی معلوم ہونی چاہییں، ان کی رعایت کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ ان شاء اللہ ضرور قبول ہوگی، گو قبولیت کی وہ صورت دعا کرنے والے کو اس وقت سمجھ نہ آئے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201033
تاریخ09-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں