بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو دفنانے کے بعد قبر پر ہاتھ رکھ کر تلقین کا حکم

سوال

قبر پے ہاتھ رکھ کے دعا کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مسلمان میت کی تدفین کے بعد قبر پر سینہ کے محاذی ہاتھ رکھتے ہوئے اللہ تعالی کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے پیغمبر ہونے کی تلقین کرنا درست ہے۔ اس کے علاوہ عام حالات میں قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنا ثابت نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، اور اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو اسے ترک کرنا واجب ہوگا۔

فتاوی شامی ہے:

(ولايلقن بعد تلحيده) وإن فعل لاينهى عنه. وفي الجوهرة: أنه مشروع عند أهل السنة، ويكفي قوله: " يا فلان يا ابن فلان! اذكر ما كنت عليه، و قل: رضيت بالله ربًّا وبالإسلام دينًا وبمحمد نبيًّا، قيل: يا رسول الله؟ فإن لم يعرف اسمه؟ قال: ينسب إلى آدم وحواء".

(مطلب في التلقین بعدالموت، ج:2، ص:191، ط: ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201028
تاریخ09-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں