بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیل کے معمولی خشک تھن موجود ہوں تو اس کی قربانی کا حکم / خنثیٰ جانور کی قربانی

سوال

بیل کے نر آلات تناسل مکمل ہیں، البتہ انگلی کے پورے برابر چار تھن جو خشک ہیں اوربہت غور سے دیکھنے پر نظر آتے ہیں، کیا ایسا جانور خنثی شمار ہو گا؟ خنثی جانور کی قربانی کس علت اور حدیث کے تحت منع ہے؟ حرمت یا کراہت کے کس درجے میں ہے؟

جواب

خنثٰی جانور سے مراد یہ ہے کہ   ایسا جانور جس میں مذکر ومؤنث دونوں علامات نہ پائی جائیں یا بیک وقت دونوں علامتیں موجود ہوں،  اور خنثیٰ جانور کی قربانی درست نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر بیل میں نر جانور کی علامات مکمل ہوں اور  مؤنث کی شرم گاہ وغیرہ موجود نہ ہو تو صرف چھوٹے سے خشک تھنوں  کی  وجہ سے اس کو خنثی شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ وہ مذکر شمار ہوگا اور اس کی قربانی جائز ہوگی۔ 

باقی خنثیٰ جانور کی قربانی  حدیث کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس مسلمہ اصول کے تحت فقہاءِ کرام نے منع کی ہے کہ قربانی کا جانور بے عیب ہونا ضروری ہے، اور خنثٰی جانور کا گوشت صحیح نہیں ہوتا اور پکتا بھی نہیں ہے، یہ اس میں عیب ہے اور عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں ہوتی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 325):

"ولا بالخنثى؛ لأن لحمها لاينضج، شرح وهبانية.

(قوله: لأن لحمها لاينضج) من باب سمع، و بهذا التعليل اندفع ما أورده ابن وهبان من أنها لاتخلو إما أن تكون ذكرًا أو أنثى، وعلى كل تجوز."

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201026
تاریخ09-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں