بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی رقم کو سونے یا ڈالر کے حساب سے وصول کرنا

سوال

 مجھ سے کسی نے 2010 میں اڑھائی لاکھ 250000 روپے ادھار لیے تھے اور ابھی تک واپس نہیں کیے، بلکہ  2023  تک  واپس کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔  مسئلہ یہ  ہے کہ 2010 میں ایک تولہ سونا کی قیمت 44500 روپے تھی اور اب ایک تولہ سونا ایک  لاکھ  100000 تک ہو گئی ہے ۔2010 میں اڑھائی  لاکھ  250000 کا 5 پانچ تولہ سونا ملتا تھا اور اب 250000 لاکھ میں 2 دو یا 2.5 اڑھائی تولہ ملے گا ۔ کیا ایسے میں اس آدمی سے سونے  کی قیمت کے مطابق رقم وصول کرنا درست ہے یا یہ سود میں آئے گا؟  اور مستقبل میں کیا میں کسی کو اس شرط پر ادھار دے سکتا ہوں کہ اگر سونا /ڈالر  مہنگا ہوا تو ادھار اس کے مطابق ادا کرو گے اور اگر سونا /ڈالر سستا ہوا تو میری رقم جو دی ہے وہی برقرار رہے گی۔ یہ سود تو نہیں ہو گا ؟

جواب

قرض کی ادائیگی کا ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض دیا جائے اس کے مثل ہی واپس لیا جائے، کرنسی کی ویلیو  کم ہونے کی وجہ  سے قرض دی ہوئی رقم کی واپسی پر اضافی رقم کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں  آپ سے مذکورہ شخص نے  2010 میں 250000 روپے ادھار لیے تھے،تو  ادائیگی کے وقت  2023   میں اس  کے  ذمے 250000 لاکھ روپے ہی لازم ہوں گے، اس سے زائد لینا اور دینا جائز نہیں ، ورنہ یہ سود کے زمرے میں آئے گا۔نیز مستقبل میں کسی کو اس شرط پر ادھار دینا کہ اگر سونا /ڈالر  مہنگا ہوا تو ادھار اس کے مطابق ادا کرو گے اور اگر سونا /ڈالر سستا ہوا تو میری رقم جو دی ہے وہی برقرار رہے گی،جائز نہیں ہے۔بلکہ وہی لازم ہوگا جو دیا ہے ۔ 

ہاں یہ صورت جائز ہے کہ قرض میں سونا دے دیا جائے، یعنی سائل خود سونا خرید کر یا اپنے پاس پہلے سے موجود سونا وزن کرواکر قرض دے دے، اور واپسی میں اتنے وزن کا سونا واپس لے لے، خواہ اس کی قیمت بڑھی ہو یا گھٹی ہو۔

"تنقیح الفتاوی الحامدیة" میں  ہے:

"الدیون تقضیٰ بأمثالها".

(کتاب البیوع، باب القرض، ج؛۱ ؍ ۵۰۰ ، ط:قدیمی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج:۵ ؍ ۱۶۶ ، ط:سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201015
تاریخ09-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں