بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں نہ بیٹھنا

سوال

 اگر کوئی بہن شوہر کی وفات کے بعد عدت میں نہ بیٹھے یا بیٹھے تو چند دنوں کے لیے بیٹھے تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

عدت میں بیٹھنا واجب ہے؛ لہذا بغیر کسی شرعی عذر کے عدت کے دنوں میں گھر سے نکلنے والی عورت گناہ گار ہوگی، اس پر توبہ لازم ہے، اور عدت کے دن باقی ہوں تو بقیہ دن پابندی بھی ضروری ہوگی، البتہ جو دن گزرچکے وہ عدت میں ہی شمار ہوں گے۔

  البحر الرائق  میں ہے :

"وجب في الموت إظهاراً للتأسف علی فوات نعمة النکاح؛ فوجب علی المبتوتة إلحاقاً لها بالمتوفی عنها زوجها بالأولی؛ لأن الموت أقطع من الإبانة ... دخل في ترک الزینة الامتشاط بمشط أسنانه ضیقة لا الواسعة، کما في المبسوط، وشمل لبس الحریر بجمیع أنواعه وألوانه ولو أسود، وجمیع أنواع الحلي من ذهب وفضة وجواهر، زاد في التاتارخانیة القصب".

(۴/۲۵۳، کتاب الطلاق ، فصل فی الإحداد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200981
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں