بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عینک غصب کی، مالک معلوم نہیں، اب کیا کروں؟

سوال

 کچھ عرصہ پہلے میں موٹرسائیکل پر سفر کررہا تھا کہ میں نے ساتھ سے گزرتے ہوئے ایک اور سوار کے پاس ایک عینک دیکھی اور شیطان نے مجھے فتنے میں مبتلا کر دیا،  میں نے دورانِ  سفر ہی موٹرسائیکل اس کے قریب کیا اور وہ عینک چھین کر رفتار بڑھا دی اور فرار ہو گیا،  اب بعد میں میں اپنے اس فعل پر نادم ہوں اور اللہ تعالی کے حضور معذرت خواہ ہوں، لیکن میں اس آدمی کو نہیں جانتا اور اس سے معافی نہیں مانگ سکا اور اس کی عینک واپس نہیں کرسکا، میرے اس گناہ کا کفارہ کیا ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ نے ایک ناجائز کام کا ارتکاب کیا ہے جس پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔ نیز اگر اس عینک کے اصل مالک کا معلوم ہونا مشکل ہو اور عینک موجود ہو تو اس کی طرف سے اسے  مستحقِ زکات کو صدقہ کردیا جائے، ورنہ اس کی قیمت اس کی طرف سے  مستحق کو صدقہ کردی جائے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200975
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں