بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ، دو بیوہ اور دو بیٹوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

مرحوم کی والدہ، دو بیویاں اور دو بیٹے ہیں، ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میںمرحوم  کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ کو  48 حصوں میں تقسیم کرکے  8 حصے مرحوم کی والدہ کو ، اس کی ہر بیوہ کو 3 حصے اور ہر بیٹے کو 17 حصے ملیں گے۔

یعنی  100 روپے میں سے مرحوم کی والدہ کو  16.66روپے ، اس کی ہر بیوہ کو 6.25 روپے اور ہر بیٹے کو 35.41 روپے ملیں گے۔فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200967
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں