بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بوسیدہ قرآن کا حکم

سوال

بوسیدہ قرآن کریم کا کیا کیا جائے ۔ کیا اس کو جلانا جائز ہے؟

جواب

قرآنِ کریم کے جو اَوراق انتہائی بوسیدہ ہوجائیں اور استفادہ کے لائق نہ رہیں ان کی حفاظت کی بہتر صورت  یہ ہے کہ انہیں کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر گہرائی میں دفن کردیا جائے; تا کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو، ان  کو جلانا خلافِ ادب ہے۔ "درمختار مع ردالمحتار" میں ہے:

" المصحف إذا صار بحال لايقرأ فيه يدفن كالمسلم". (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطهارة، سنن الغسل (1/177) ط:سعید)

"فتاویٰ ہندیہ" میں ہے:

"المصحف إذا صار خلقًا وتعذرت القراءة منه لايحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة". (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن (5/323) ط: دار الفکر) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200961
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں