بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ میں دکان کی دس فیصد سیل طے کرنا

سوال

دکان کرایہ پر دینا اور کرایہ سیل کا دس فیصد طے کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی جگہ کرایہ پر دیتے وقت اس کا کرایہ طے کرنا ضروری ہے، اگر کرایہ طے نہ ہو تو ایسا کرایہ کا معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چوں کہ متعین کرایہ طے نہیں کیا جارہا، لہذا ایسا معاملہ کرنا ناجائز ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4 / 181):
"ومنها: بيان المدة في إجارة الدور والمنازل، والبيوت، والحوانيت، وفي استئجار الظئر؛ لأن المعقود عليه لايصير معلوم القدر بدونه، فترك بيانه يفضي إلى المنازعة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200960
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں